OnlineMushaf

صفحہ 449

الصافات · 37:77–37:102

سورۃ الصافات الصافات

وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ ٧٧

اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ٧٨

اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا

سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ ٧٩

یعنی) تمام جہان میں (کہ) نوح پر سلام

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ٨٠

نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ ٨١

بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ ٨٢

پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا

وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ ٨٣

اور ان ہی کے پیرووں میں ابراہیم تھے

إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ٨٤

جب وہ اپنے پروردگار کے پاس (عیب سے) پاک دل لے کر آئے

إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ ٨٥

جب انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟

أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ ٨٦

کیوں جھوٹ (بنا کر) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو؟

فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ٨٧

بھلا پروردگار عالم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ ٨٨

تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی

فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ ٨٩

اور کہا میں تو بیمار ہوں

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ ٩٠

تب وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے

فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ٩١

پھر ابراہیم ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ تم کھاتے کیوں نہیں؟

مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَ ٩٢

تمہیں کیا ہوا ہے تم بولتے نہیں؟

فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ ٩٣

پھر ان کو داہنے ہاتھ سے مارنا (اور توڑنا) شروع کیا

فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ ٩٤

تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے

قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ ٩٥

انہوں نے کہا کہ تم ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو؟

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ٩٦

حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے

قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ ٩٧

وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو

فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ ٩٨

غرض انہوں نے ان کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور ہم نے ان ہی کو زیر کردیا

وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ ٩٩

اور ابراہیم بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا

رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ١٠٠

اے پروردگار مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو)

فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ١٠١

تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ١٠٢

جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجیئے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پایئے گا

ترجمہ: فتح محمد جالندھری