صفحہ 375
الشعراء · 26:184–26:206
سورۃ الشعراء الشعراء
وَاتَّقُوا الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْأَوَّلِينَ ١٨٤
اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی خلقت کو پیدا کیا
قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ ١٨٥
وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو
وَمَا أَنتَ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ١٨٦
اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ١٨٧
اور اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر گراؤ
قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ١٨٨
شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ١٨٩
تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا، پس سائبان کے عذاب نے ان کو آ پکڑا۔ بےشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ١٩٠
اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ١٩١
اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے
وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ١٩٢
اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے
نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ١٩٣
اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے
عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ١٩٤
(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو
بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ ١٩٥
اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)
وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ١٩٦
اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے
أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ١٩٧
کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں
وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ ١٩٨
اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے
فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ ١٩٩
اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے
كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ٢٠٠
اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا
لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ٢٠١
وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں گے، اس کو نہیں مانیں گے
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ٢٠٢
وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی
فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ ٢٠٣
اس وقت کہیں گے کیا ہمیں ملہت ملے گی؟
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ٢٠٤
تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ ٢٠٥
بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے
ثُمَّ جَاءَهُم مَّا كَانُوا يُوعَدُونَ ٢٠٦
پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
ترجمہ: فتح محمد جالندھری